وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ “سرجری” تو نہیں

 

pak vs nz 5th t20 2025 full highlights
pak vs nz 5th t20 2025 highlights

پاکستان کرکٹ ٹیم نے نیوزی لینڈ کے خلاف پانچواں ٹی ٹوئنٹی میچ بھی ہاتھ سے گنوا دیا اور یوں پانچ میچوں کی سیریز میں 4-1 کی شرمناک شکست کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ 

ویلنگٹن کے میدان میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی دیکھ کر لگتا تھا کہ یہ کوئی بین الاقوامی میچ نہیں بلکہ محلے کے لڑکوں کی کسی چپقلش پہ چھترول ہو رہی ہے۔ نیوزی لینڈ نے پاکستان کے 128 رنز کے ہدف کو محض 10 اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا، جہاں ٹم سیفرٹ نے 97 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیل کر پاکستانی بولرز کی ایسی دھلائی کی کہ آئندہ چند دنوں تک تو ٹھیک انہیں نیند بھی نہیں آئے گی۔ دوسری طرف جمی نیشم نے پانچ وکٹیں لے کر پاکستانی بیٹنگ لائن اپ کو اس طرح تہس نہس کیا جیسے کوئی بچہ اپنے کھلونوں کو غصے میں توڑ دیتا ہو۔ کپتان سلمان علی آغا کے 51 رنز کے سوا کوئی اور بیٹسمین دہائی تک بھی نہ پہنچ سکا، اور شاداب خان کے 31 رنز بھی اس تباہی کو روک نہ سکے۔

یہ شکست کوئی اچانک واقعہ نہیں تھی، بلکہ پوری سیریز میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی ایک ایسی فلم کی طرح رہی جس کا ہدایت کار خود نہیں جانتا کہ کہانی کہاں جا رہی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس بھیانک کارکردگی کے بعد آخر کار “داماد الیون” کا خاتمہ ہو پائے گا؟ شاداب خان اور شاہین آفریدی، جن کے بارے میں یہ اب محض خیال نہیں، حقیقت ہے کہ ان کی ٹیم میں شمولیت کرکٹ سے زیادہ رشتہ داریوں کی وجہ سے ہے۔ شاداب نے 31 رنز تو بنا لیے، لیکن ان کی بولنگ میں وہی پرانا رنگ نظر آیا—ایک اوور میں چار چھکا کھانے کے بعد اب محض تاویلات کے بھروسے ہی وہ ٹیم کا حصہ رہ سکتے ہیں۔ شاہین آفریدی، جو کبھی پاکستان کے تیز بولنگ کے سہارے تھے، اب لگتا ہے کہ صرف اپنے نام کے بھروسے پر کھیل رہے ہیں۔ کیا یہ شکست ان کے اقربا پروری کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی، یا پھر پی سی بی انہیں مزید “مہلت” دے کر اپنی روایات کو برقرار رکھے گا؟

اور پھر بات آتی ہے سفیان مقیم کی۔ اس میچ میں صفیان نے اپنی اسپن سے نیوزی لینڈ کے بیٹسمینوں کو چکرا دیا تھا، تو اس وجہ صرف یہ تھی انتظامیہ انہیں دھوپ لگوانا چاہ رہی تھی۔ ابتدائی میچز میں وہ کہاں غائب ہو گئے؟ کون ہے جو اس طرح کے پرفارمرز کو باہر بٹھانے کا فیصلہ کرتا ہے؟ کیا یہ کوئی “بڑا ہاتھ” ہے جو پسندیدگی کی بنیاد پر ٹیم بناتا ہے، یا پھر کوچنگ اسٹاف (اگر کوئی ہے تو) کی حکمت عملی اتنی گہری ہے کہ عام انسان کی سمجھ سے باہر ہے؟ سفیان جیسے کھلاڑی جب بینچ پر بیٹھے ہوں تو لگتا ہے کہ پاکستانی کرکٹ کا انتخابی عمل کمپیوٹر سے زیادہ لاٹری مشین سے چلتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ محسن نقوی، کیا ایک بار پھر “سرجری” کا اعلان کریں گے؟ اور ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لائیں گے؟ یا اب کرکٹ مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں سرجری سے زیادہ ٹونے ٹوٹکے ہی آزمائے جائیں گے۔

یہ میچ اور پوری سیریز پاکستانی کرکٹ کے لیے ایک آئینہ ہے—ایک ایسا آئینہ جو ٹوٹا ہوا بھی ہے اور دھندلا بھی۔ سلمان علی آغا نے کپتانی میں کوشش تو کی، لیکن کپتان اکیلا کیا کر سکتا ہے؟ نیوزی لینڈ نے ثابت کر دیا کہ وہ آئی پی ایل کے بغیر بھی اپنے دوسرے درجے کے کھلاڑیوں سے پاکستان کو دھو سکتے ہیں۔

اپ کیا دیکھتے ہیں کہ اس شکست کے بعد پاکستانی کرکٹ کا کیا حال ہو گا؟

کیا واقعی کوئی بڑا فیصلہ ہوگا؟

کیا اب آخری سرجری ہو گی، جس کے بعد پاکستان کرکٹ کی بس تدفین باقی رہ جائے گی؟

#PAKvNZ #pakistancricket

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *